کالعدم ایکشن کمیٹی کے عزائم بے نقاب؟ کور ممبر امان نے اصل ایجنڈا سامنے رکھ دیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کے عزائم بے نقاب؟ کور ممبر امان نے اصل ایجنڈا سامنے رکھ دیا

جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے کور ممبر سردار امان کی جانب سے الگ ریاست کے قیام کو تنظیم کا اصل ایجنڈا قرار دینے کے بیان نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سردار امان کے مطابق اب بات صرف ان مطالبات تک محدود نہیں رہی جو پہلے حکومت کے سامنے پیش کیے گئے تھے بلکہ تنظیم کا اصل ہدف الگ ریاست کا قیام ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

کئی پاکستانی سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار اس مؤقف کو بھارت کی اُس پالیسی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ نئی دہلی طویل عرصے سے کشمیر کے مسئلے کو مختلف زاویوں سے پیش کرنے اور خطے میں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کی کوشش کرتا رہا ہے ان تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں ایسی کوششیں عوامی سطح پر وسیع حمایت حاصل نہیں کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کا بل آدھا کرنا ہے ؟ آسان فارمولا جان لیں

پاکستان میں کشمیر کے حوالے سے عمومی سرکاری مؤقف یہ رہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی ایک بڑی تعداد خود کو پاکستان کے ساتھ وابستہ سمجھتی ہے اور پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کی حامی ہے ایسے میں جے اے اے سی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے الگ ریاست کے مؤقف کو سامنے لانا نئی سیاسی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

یاد رہے کہ جے اے اے سی نے گزشتہ لانگ مارچ سے قبل بھی یہ اعلان کیا تھا کہ اگر حکومت اس کے پیش کردہ مطالبات تسلیم بھی کر لے تب بھی لانگ مارچ ہر صورت کیا جائے گا جس پر اس وقت بھی مختلف حلقوں نے سوالات اٹھائے تھے۔

دوسری جانب جے اے اے سی کی مرکزی قیادت کی جانب سے سردار امان کے حالیہ بیان پر تاحال کوئی باضابطہ وضاحت یا مشترکہ مؤقف سامنے نہیں آیا جبکہ حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی اس معاملے پر باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles